Nous Videos· 22 Oct 2026· 23:14

Why Has Jamia Millia Islamia Gone Nearly Two Decades Without a Student Union?

Jamia Millia Islamia has gone nearly two decades without student union elections. Now, students are demanding the immediate reinstatement of their union, alleging the suppression of dissent and a shrinking democratic space on campus. In this ground report, Nous on the Ground, we speak to protesti…

Full Transcript

یونین کے تیراہے کا حساب ابھی کیا دیا جمعیہ کے اپمان کا جواب ابھی کیا دیا سینے میں جو آگے کہاں وہ بجھ پائی ہے لڑنا ہے بھائیہ یہ تو لائی ہے

میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہوں جامعہ ملیہ اسلامیہ میرا علمہ مارٹر بھی ہے یہ ایک دیلیبریٹ اٹیمٹ ہے کہ جو مسلم لیڈرشپ ہے وہ اُبھر نہ پائے I have gotten calls, we have organised study circles remembering اشواق بسمل فاطمہ شیخ and we have gotten calls from جامعہ نگردانہ سٹوڈنٹ یونین بن جاتی ہے تو موجودہ ایڈمنسٹریشن کو کیا در ہے؟ جامعہ بھاگے یونین

تو آپ کو لگتا ہے کہ اگر سٹوڈن یونین بنتی ہے تو کہیں نہ کہیں یہاں سے لیڈرز نکلیں گے ایک رپریزنٹیشن لوک صحبہ میں ویدان صحبہ میں تمام جگہوں پر بہتر ہوگا ہمارے اوپر ظلم ہے داستان جو ہے وہ ہماری ہے ہمارے زبان سے نکلنا جو ہے وہ زیادہ ضروری ہے کہیں نہ کہیں گلف شاہ فاطمہ جیسے لوگ جو ہیں وہ آزاد تو ہو جاتے ہیں لیکن آزاد ہو کر بھی وہ قید ہی رہتے ہیں کسی قوم کو اگر ختم کرنا ہے تو اس قوم کی لیڈرشپ کو چھن ل

ہر یونیورسٹی اندونن سے نہیں بنتی جامعہ نون کوپریشن موزمنٹ سے جنور بلکل تو پھر ہماری وچاردھارہ کو دبائے کیوں جاتا ہے جب ان کو اتنی اوپرلی سب کرنے کا موقع ملتا ہے تو ہمیں کیوں نہیں کرنے کا موقع ملتا ہمیں کیوں دبائے جاتا ہمیں کیوں ٹرررس کے آ جاتا ہے پاور تو دینی پڑے گی کیونکہ ہم سٹوڈنٹ ہیں ہم آپ کی کڑپتنی بلکل نہیں ہیں نہ بننے والے جامعہ ملے اسلامی ایک سنٹرل یونیورسٹی ہے اور اس یونیور

بچے اپنا حق مانگ رہے ہیں تو ان کے لئے رپیس کی جوان لگا دیا جاتی ہے سارے گارڈ سکوراتورات لگا دیا جاتا ہے تو ہم جیسے سٹوڈنٹ کو یہ بتا دیا گیا ہے کہ اگر آپ آباز بلند کریں گے اور آپ کھڑے ہونے کی کوشش کریں گے تو آپ کے ساتھ اگزامپل سیٹ ہیں آپ جو ہے عمر بھی بن سکتے ہیں شرجل بھی بن سکتے ہیں

میں اس وقت جامعہ ملیہ اسلامیہ میں موجود ہوں یہاں پر لگ بھگ بارہ دنوں سے پروٹیسٹ جاری ہے سٹوڈنٹ یونین کو ریوائیو کرنے کا پچھلے بیس سال سے یہاں پر سٹوڈنٹ یونین کے الیکشنز نہیں ہوئے ہیں ہم جس طرح سے جنزی پروٹیسٹ کو دیکھ رہے ہیں جس طرح سے علیگر مسلم یونیورسٹی میں جو سٹوڈنٹ یونین ہے اس کو ریوائیو کیا گیا ہے کہیں نہ کہیں جو جامعہ کے سٹوڈنٹ ہیں ان کو بھی لگتا ہے کہ ان کی بھی سٹوڈنٹ یونین کو

دیا گیا ہے یہاں پر سٹوڈنٹس آتے ہیں پڑھنے کے لیے لیکن اس کے علاوہ انہیں اپنی ایک بھی بات کرنے کی اجازت نہیں ہے اگر وہ کوئی بھی بات کرتے ہیں جو ایڈمنسٹریشن کو پسند نہیں ہے تو سسپینشن ہوتے ہیں تھانوں سے ان کو کالز آتے ہیں اور یہاں تک کہ ان کو ہاسٹل سے نکال تک دیا جاتا ہے تمام ان کے بہت سارے مدے ہیں جو ان کو یہ لگتا ہے کہ اگر سٹوڈنٹ یونین بنتی ہے تو اس کو ایک آواز ملے گی

تو ابھی میں جامعہ کے اندر موجود ہوں اور آپ کو پتا ہے یہاں پر سٹوڈنٹ یونین کی مانگ کو لے کر لگاتار پروٹیسٹ جاری ہے یہاں پر چار سٹوڈنٹس ہیں جو فلحال ہنگر سٹرائک پر ہیں دو سٹوڈنٹس کی ہنگر سٹرائک کا آج نائنٹھ دے ہے اور دو سٹوڈنٹس کی ہنگر سٹرائک کا آج سکس دے ہے آج ایڈمنسٹریشن سے ان کی پہلی بات چیت بھی ہوئی ہے ہم یہ جانیں گے کہ اگر ان کی مانگوں کو نہیں مانا جاتا ہے تو یہ ہنگر سٹرائک

کیا ہے آپ مجھے بتائیں آپ کا چھتا دن ہے ہنگر سٹرائک کا مجھے بتائیے کی کیوں آپ کو لگا کہ آپ کو ہنگر سٹرائک پر بیٹھنا چاہیے ہمارا ہنگر سٹرائک پر بیٹھنا صرف اس لیے ضروری تھا کیونکہ یہ سوتا ہوئے ایڈمنسٹریشن تھا اسے جگانا اتنا ہی ضروری تھا جتنا آج ہمیں ان بچوں کی ضرورت ہے ہم نے ہنگر سٹرائک اس لیے کنٹینیو بھی کری ہمیں اٹھا دیا گیا تھا سترہ کیوبر کی صبح کو لیکن ہم نے پھر بھی صرف اس

تاکہ ہمارا منوبل دیکھ کے باقی بچوں کا منوبل بڑھے اگر آپ کی مانگو کو نہیں مانا جاتا ہے تو پھر آگے کا آپ کا کیا پلان ہے کیونکہ یہ ہنگر سٹرائک تو آپ کے لیے آگے صحت کے لیے آپ کی زندگی کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے دیکھیں جیسے میں نے پہلے دن ہی کہا تھا جب میں ہنگر سٹرائک پر آیا تھا کہ ہنگر سٹرائک تل ڈیتھ ہے انٹل وی گاٹ ایسٹوڈنٹ یونین کیونکہ جو ہمارا حق ہے جو ہمارا عدیقار ہے اور میں کہوں گ

اس پر پچھلے بیس سالوں سے ظلم ہوا ہے تو ہم مجھے کہیں نہ کہیں یہ پرسنلی ہے کہ جب تک یونین نہیں مل جاتا ہے میں ہنگر اس سائٹ سے نہیں اٹھیں گا اور دوسری سب سے بڑی بات کہ ایڈمنیسٹریشن ایسی بربرتہ پہ اتر آیا تھا کہ اب اگر کوئی امیڈیئٹ ایکشن نہ لیا جاتا تو

ہماری جتنے بھی جایز حق تھے جتنے بھی جایز ڈیمانڈز تھے ان سب کو دبا دیا جاتا ریحان ہے میرے ساتھ ریحان کا بھی اس ہنگر سٹرائک کا چھتا دن ہے

لیکن کسی نہ کسی کو آز اٹھانی ہوتی ہے ابن میرے ساتھ ہیں اور ابن کی ہنگر سٹرائک کا نائنٹھ ڈے ہے نائنٹھ ڈے ہے اور جیسے میں نے آپ کو بتایا تھا کہ دو سٹوڈنٹ ہیں جن کا نائنٹھ ڈے ہے دو سٹوڈنٹ ہیں جن کا سکس ڈے ہے ابن مجھے بتائیے کہ آپ کو کیوں لگا کہ آپ کو ہنگر سٹرائک پر بیٹھنا چاہیے اور اس سے پہلے مجھے بتائیے کہ آپ کی طبیعت کیسی ہے طبیعت بہت کمزوری ہو رہا ہے میں فیلنگ میری ٹائرڈ اور

ہم نے جب ہم بیٹھے تھے ہمیں سوچ کر چلے تھے کہ زامیہ سے ایک طرف سے کوئی ریسونس آنے ہی نہیں والا تو اس ڈکٹیٹرشپ کو ہم اگر ایسی چلنے دیتے تو آنے والی نے اس لئے شاید ہم سب سے سوال کرتی ہے کہ جب اس طرح کا ڈکٹیٹرشپ اس طرح کا ڈیوٹرلیٹی ہو رہی تھی اپنے لوگ کہاں تھے ہم ہمارا بوکر تل کانجنیو کریں گے آپ آہ انترین انڈرلس

جیسا کہ جامعہ کے ساتھ جامعہ کی چھاتر ہیں اور اس پروٹیسٹ میں بھی کافی مضبوط طریقے سے اپنی بات کو وہ رکھ رہی ہیں میں نوشین سے جانوں گی کہ ان کچھ دنوں میں جو کچھ ہوا ہے اس کو ایک سٹوڈنٹ کے طور پر وہ کس طرح سے دیکھ رہی ہیں اور بیس سال کے بعد آخر کیوں جامعہ کے سٹوڈنٹس کو لگ رہا ہے کہ انہیں سٹوڈنٹ یونین کو ریوائیو کرنے کی ضرورت ہے جیسے کہ ہم لوگ نے سٹارٹ یہ جو ہنگل سٹرائک کیا تھا یونین کی لے کیا تھا

اور یہ سب ایشوز ہم دیکھ رہے ہیں ہم دیکھ رہے ہیں کہ کیسے کیسے چینجز ہمارے اس یونیورسٹی بھی ہو رہے ہیں جیسے کہ سب سے بڑی بات ایک سٹوڈنٹ کو اگر ایڈمیشن چاہیے تو وہ انٹرنس دیتا ہے جامعہ میں جامعہ کا انٹرنس بڑا ہی فیمس ہے بہت کمی بچوں کو یہاں ایڈمیشن ملتا ہے اس پہ بھی ایڈمیشن چوری ہم لوگوں نے ووٹ چوری سنا ہوگا لیکن جامعہ میں ایڈمیشن چوری ہوتی ہے

جس میں اچھے مارکس والے بچوں کو ہٹا دیا جاتے ہیں جسٹ بیکوس ایڈمنسٹریشن کے کچھ کیا بولتے ہیں سٹاف کے بچوں کو ایڈمیشن دینا ہوتا ہے یا پھر ان کے ریلیٹیوز کو ایڈمیشن دینا ہوتا ہے یا پھر ان کے آر ایس ایس ایف ایم بی جے پی کے لوگوں کو ایڈمیشن دینا ہوتا ہے یہاں پہ جو جامعہ میں حالات ہے ایڈمین کے ڈکٹیٹرشپ کا اس سے بچے بہت پریشان ہو گئے ہیں اور ظلم ایک حد تک ہی برداشت کیا

پروٹیسٹ سائٹ پر آ چکے ہیں ظلم کا آپ کا مطلب کیا ہے؟ یہ ظلم کا کچھ معاملہ ایسا ہے کہ ہاؤسٹل لسٹ میں نام آنا ہوتا ہے تو منتریوں کا فون آتا ہے اس ویس پہ آپ کو ہاؤسٹل پہ ایڈمیشن آسانی سے مل جائے گا جو کرائیٹیریاں ہیں کبھی کبھی وہ فالو ہی نہیں ہوتا ہے ایڈمیشن پروسس میں کئی بار دھان لیت دیکھی جاتی ہے اس بار بہت بڑے نیول پہ ایڈمیشن چوری کا معاملہ سامنے آیا اس کیمپس میں این ای پی ٹو

این ای پی ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے ایمپلیمنٹ ہونے کے بعد ہر سال فیز بڑھ گئے گئے ہر کورس کی ہسٹلز ملتے ہی نہیں ہیں کیمپس میں لگ بگ چار ہزار ہی ہسٹل کی سیٹیں ہیں گرلز اور بوئیس کو ملا کے اور جامعہ میں اکیس ہزار سے بھی زیادہ سٹوڈنٹس بڑھتے ہیں تو اٹ ایس منسکوئل بہت ہی کم آبادی کو ہسٹل ملتا ہے اس کے وجہ سے ہسٹل کا جو اپلیکیشن پروسس میں اس میں بھی ٹرانسپیسی کا کافی ہے اور کافی

مدہ اٹھتا ہے اس کے بعد یہاں پہ ہمارے ہاسٹل میں جو فیسلیٹیز کی ایشیوز ہیں سب سے زیادہ ایک امپورٹنٹ ہائی جین کا جو ہوتا ہے جو فوڈ میں ہوتا ہے کیڑے ملتے ہیں ہر دن فوڈ میں کیڑا ملتا ہے اسے لگتا ہے کہ جان وجھ کے وہ کیڑے ڈالتے ہیں اسے کیڑے ملنا بچوں کا پروٹیسٹ کرنا اس چیز میں یہاں پہ ہر چھوٹی بات پہ بچے پروٹیسٹ نہیں کرتے بڑے ہی کم چیز

بڑے کم چیزوں میں یہاں میں بچے پروٹیس کرتے ہیں جن میں انہیں لگتا ہے کہ جنیونلی میں پروٹیس کرنا چاہیے لیکن ایک ایسا نام بنا ہوا ہے کہ جامعہ کے بچے سے پروٹیس کرتے ہیں اگر یہاں یونین ہوتا تو ہر بات پر پروٹیس نہیں ہوتا یونین ہوتا تو ایک پرسیڈنٹ ہوتا ہمارے لئے ہماری طرف سے بات کرنے کے لئے ہماری باتوں کو آئر ایڈوریٹی تک پہنچانے کے لئے

اور یہ اس لئے ضروری ہے یہاں پہ ہمارا ریپریزنٹیشن جو نیشنل لیول پہ جائے گا اگر سٹورنٹ یونین آ جاتی ہے ہوسٹل کے الاؤٹمنٹس میں ہوسٹل کے میس میں جتنا بھی کچھ ابھی ہوتا ہے وہاں پہ ہمارا کوئی ریپریزنٹیشن نہیں تھا وہاں پہ اتنا ان ہائیجنک طریقے سے سب کچھ مینج ہو رہا ہے اگر وہاں پہ ہمارے اسے ہی اندر اٹھ کے کوئی ایک ریپریزنٹیٹیو جائے گا وہاں پہ چیک ان بیلنس ہو گا پھر وہاں پہ

ہم دیکھتے ہیں کہ جب بھی کوئی جامعہ کے اندر اتھارٹی کی طرف سے بچوں کو پریشان کیا جاتا ہے سیکیورٹی گارڈ ہو یا جامعہ کی جو پروکٹر آفیس ہے وہاں سے کچھ پرابلم بچوں کے ساتھ فیس کرنی پڑتی ہے ہمیں تو ہم جب وہاں پر آواز کو بلند کرتے ہیں تو شوکوز دے دیا جاتا ہے ہسٹل کے اندر ہم جب دیکھتے ہیں کہ کھانا خراب ہے ہسٹل کے اندر کھانے میں کیڑے نکلتے ہیں

ہم وہاں آواز کو بلند کرتے ہیں تو وہاں شوکوز دے دیا جاتا ہے اور اگر آپ کو ہسٹل کے اندر شوکوز مل جاتا ہے تو آپ جیسے میرا بیچلر جامعہ سے رہا ہے میں ماسٹرز کے اندر میں نے اپلائی نہیں کیا لیکن کچھ سٹوڈنٹ کے ساتھ ایسا رہا ہے جنہوں نے اپلائی کیا اور وہ بیچلر کے اندر وہ بہت زیادہ فوڈ کمیٹی کے خلاف بات کر رہے تھے ان کو ماسٹرز میں ہسٹل نہیں دیا جاتا یہ تمام پروبلم ہیں جس کی وجہ سے ہمیں لگا کہ ہمیں سٹوڈ

آپ اسی campus کے لون میں مان لیجئے کچھ students بیٹو این ٹین کھیل رہے ہیں یا کچھ students گٹار لے کے بیٹھے ہیں وہاں جا جاتے ہیں طور پر بولتے ہیں آپ تو پرمیشن نہیں ہے اپنے ہی لون میں بیٹو این ٹین کھیلنے کے لئے میوزک سیشنز کرنے کے لئے یا پھر آپ study circle کرنے بیٹھے ہیں تو آپ کو جامعہ نگر تھانے کے سپیشل بران سے call آئے گا really؟ I have gotten calls we have organised study circles remembering اشواق بسمل فاطمہ شیخ and we have gotten calls from جامعہ نگر تھانے

کہ ہمارے یہاں پر کئی ساری پارٹیاں کام کرتے ہیں، جیسے کہ تینٹیو مومنٹ سے میں ہوں، پھر یہاں پر ایم ایس ایف ہے، ایم ایس ایو آئی ہے، ایس ایف آئی، سبھی اس کمپس کے اندر exist کرتے ہیں۔ لیکن ہمیں اگر کوئی ایک پروگرام organise کرنا ہے، ایک چھوٹا سائیون، ہمارا ایک وہ ہوتا ہے کہ دیلی talk ہوتا ہے، مانتلی، ویکلی، مانتلی ہم talk پر بیٹھتے ہیں، وہ talk کرتے وقت بھی سی سی ٹی وی cameras دیکھتے ہمارے پ

وہ بھی وہ روک دیتے ہیں

جس طرح سے یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ کمپسز کا رسسی کرن ہو رہا ہے جامیہ اور علیگر جیسی جو یونیورسٹیز ہیں اس میں نہیں چاہتے ہیں کہ جو ووکل وائسز ہیں وہ باہر آئیں کیا آپ کو لگ رہا ہے کہ ان کو ایک سپریس کرنے کی کوشش ہے ایک اوپن جیل بنانے کی کوشش ہے اس کو بلکل یہ کوشش ہے اور ان در لاجر روجیک کہ سٹوڈنٹس اپنے ریال ایشیوز

فی ہائٹس، ہاسٹل اسیوز، انفراسٹرکچر، منیٹر ایٹرننس پالیسیز، کیمپس میں ان جنرل اور ڈیموکراتکس جو سپیس کا اسیو ہے اس پر سٹوڈنٹس جب بھی بھی آواز اٹھاتے ہیں تو شو کاؤز نوٹسز، سسپینشن، کیمپس بین، رسٹیکیشن، فیزیکل آسلٹس معمولی بات ہے اس کیمپس میں ہر سیمیسٹر ہو رہے ہیں

لچوں کو گھسیٹا جاتا ہے ساری وائیڈی میں پولیس والوں کو بلا لیتے ہیں ہائی پروٹیس میں یہ لوگ ہوتا ہے this is well documented اپن جیل بنانے کی تو ان کی پوری

کچھ کوشش ہی تھی بھی لائبریرین لوگوں نے بند کر دی گیٹ نمبر سیون بند کر دیا تھا ہمارے بھی کچھ ساتھیوں کو لیکن ہم نے ہاں تب بھی نہیں مانی ہم نے گیٹ نمبر سیون پہ باہر ہی بیٹھ کے اپنا پیسول پروٹیس جاری رکھا لیکن انہوں نے اس کو اتنا الیگل بنا دیا ہمیں کہتے ہیں الیگل کام کر رہا ہے پروٹیس کب سے الیگل کام ہو گیا یہ کیمپس ایک اوپن جیل ہی ہے اسی کی وجہ سے تو آج یہ انگل سٹرائٹ ہے لیکن بچے آزاد ہونا چاہت

پڑھتے ہیں مزے کرتے ہیں دوستوں سے بات کرنے یا نہ بات کرنے کی آزادی ہے نہ کچھ اور کرنے کی آزادی ہے کیا آپ کو لگ رہا ہے کہ رسس نے جامعہ جیسے انسٹیٹوشن کو کیا ایک طرح سے کیپچر کر لیا ہے کیا آپ کو لگ رہا ہے کہ ایک کوشش ہے یا آپ کو لگ رہا ہے کہ اس کوشش میں وہ کامیاب ہو گئے ہیں

مجھے لگتا ہے کہ وہ اپنی کوشش میں کافی حد تک کامیاب ہو چکے ہیں حالانکہ کمپس میں انہیں ریزسٹنس کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے کنٹینیوسلی کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں جس طرح سے سیفرنائیزیشن کمپس میں بڑھتے جا رہا ہے اور یہ جو سٹوڈنٹ یونین کی ہماری ڈیمانڈ ہے یہ تو ڈیفنیٹلی ہماری پرائوریٹی ہے لیکن یہ جو چیز ہے وہ بہت بڑے لیول پر دیکھنے کی ضرورت ہے ہمیں کیونکہ جب ہم دیکھ

ایمیو کو اس کے لیے مشکل کرنی پڑتی ہے جا توجہت کرنی پڑتی ہے

جامعہ کو اس کے لئے جدوجہد کرنی پڑتی ہے کیوں آپ کو لگتا ہے کہ بیس سال تک اس کو سپریس کیا گیا ہے اور اگر سٹوڈنٹ یونین بن جاتی ہے تو موجودہ ایڈمنسٹریشن کو کیا ڈر ہے؟

تو میں امید کرتا ہوں کہ ہم سوڈنٹ یونین کریں گے انشاءاللہ

ایک ایسی سٹرونگ لیڈرشپ جو انٹیلیکچول ہو اور وہ انگیج کرے چیزوں پر کٹیک کرے جو ایک پاپولر نیریٹیو ہے اس کو کوشش کرے اس کو وہ برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے اور وہ اسی وجہ سے وہ ایک وہ مسلم جو لیڈرشپ ہے اس کو بھڑنے سے روکتے ہیں اور جو الیکشنز نہ ہونا چاہے یہاں پہ ہو ایمیو میں ہو مانو میں بھی دیکھا ہم نے کہ وہاں پہ بھی روک لگانے کی کوشش ہوتی رہتی ہے تو وہ اس کا حصہ ہے اور جیسے کہ آپ نے کہا کہ سب

سارے ویچاردھاروں کے لئے یہ جگہ ہونی چاہیے، صحیح بات ہے تو پھر ہماری ویچاردھاروں کو دبائے کیوں جاتا ہے؟ جب ان کو اتنے اوپرلیس اپ کرنے کا موقع ملتا ہے تو ہمیں کیوں نہیں کرنے کا موقع ملتا ہے؟ ہمیں کیوں دبائے جاتا ہے؟ ہمیں کیوں ڈرلس کیا جاتا ہے؟ ہمیں کیوں حلق کر دیا جاتا ہے؟ ہمارے اوپر ایسے مکھییں جیسے یہ سیکیورٹی گارڈز بھی مناتے ہیں جیسے کہ ہم نے کوئی کرائیم کر دیا ہو ہم بس بی

اگر آپ ایک موسیقی سیشن کر رہے ہیں تو آپ کو کچھ چیز کر رہا ہے۔ بسیاری طور پر ملٹری سکول کے، سکول سٹوڈنٹ کے بحیویت کے وپریت اگر چھاٹو کچھ بھی کرتے ہیں تو ترینٹ ریک ڈاؤن، ایڈمنسٹریشن کرتے ہیں۔ یہاں پر کمپس کے اندر باریکیٹس ہیں، آپ جائیں گے گیٹ نمبر آٹھ کے اندر۔ آپ کو پولس جیسے باریکیٹس دکھیں گے جامعہ اور سیکیورٹی کے نام سے۔ کیا آپ کو لگ رہا ہے یہ ایڈمنسٹریشن انڈی

یہ دیسیجنز لے رہا ہے یا آپ کو لگ رہا ہے کہ اوپر سے کہیں ان کو انسٹرکشنز ہیں؟ ڈیفینیٹلی اوپر سے ہیں کیونکہ ہم پہلے دن سے یہ بات بول رہے ہیں کہ ہماری لڑائی جب ہم ایڈمنسٹریشن کے خلاف بات کرتے ہیں تو ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے یہ جو چیز ہے یہ ایڈمنسٹریشن کے بہت اوپر سے آتی ہے یہ آرڈرس انہیں دیے جاتے ہیں اور یہ جو ہے یہ اپنے جو گریٹر ماسٹرز ہیں ان کو سرف کر رہے ہوتے ہیں اور ان کے انٹریس

علیگرد کے ہم بات کریں تو علیگرد میں ہمیں آزم خان صاحب کا نام ملتا ہے کہ وہاں کی لیڈرشپ میں آزم خان کا نام آتا ہے لیکن آپ جامعہ کے لیڈرشپ میں ہمیں کوئی نام بتا سکتے ہیں اس لیے کہ لیڈرشپ کو اگر کسی قوم کو ختم کرنا ہے کسی قوم کو اگر ایک دن بے ساخی کے سارے کھڑے کرنا ہے تو اس قوم کی لیڈرشپ کو چھن لیا جاتا ہے اور یہی کچھ جامعہ کے ساتھ ہوا ہے اور ابھی بھی ہو رہا ہے

اور ہم کوشش یہی کر رہے ہیں ایسیو کے ساتھ میں کہ اگر ایسیو جامعہ کے اندر آتی ہے تو جو بے ساختی ہے اس کو توڑ کر ہم پاؤں پہ کھڑے ہونے کی کوشش کریں تو آپ کو لگتا ہے کہ اگر سٹوڈنٹ یونین بنتی ہے تو کہیں نہ کہیں یہاں سے لیڈرز نکلیں گے ایک رپریزنٹیشن لوگ سبحا میں ویدان سبحاوں میں تمام جگہوں پر بہتر ہوگا

جی اگر وہاں تک وہ نہیں بھی پہنچ سکے تب بھی ایک ایسی وائس ہوگی جو مسلمانوں کی آواز کو اٹھا سکتی ہے جو سٹیٹ کو کوشن کر سکتی ہے جو پولیس کی برٹالیٹی کو کوشن کر سکتی ہے جو ہمیں سالوں پر دیکھنے کو ملتا ہے اور جو ایمیو وغیرہ ایمیو جیسی جگہ ہے وہاں پر ہمیں سالوں پر دیکھنے کو ملتا ہے

جو ہیں وہ آزاد تو ہو جاتے ہیں لیکن آزاد ہو کر بھی وہ قید ہی رہتے ہیں ایک طرح کے ایک اوپن جیل میں ان کو قید کر دیا گیا ہے بند صلاحوں سے ایگزامپل بھی کیریٹ کیا گیا ہے مسلم فیس کے ساتھ میں جیسے عمر اور شجیل کے ہم بات کرتے ہیں تو یہ ہم جیسے سٹوڈنٹ کو یہ بتا دیا گیا ہے کہ اگر آپ آباز بلند کریں گے اور آپ کھڑے ہونے کی کوشش کریں گے تو آپ کے ساتھ ایگزامپل سیٹ ہے آپ جو ہے عمر بھی بن سکتے ہیں شجیل بھی بن سکتے ہیں اور ہم تو یہ کہتے ہیں

جو ہے وہ زیادہ ضروری ہے جب لوگ آتے ہیں تو وہ نیوٹرل نہیں ہوتے وہ آتے ہیں تو وہ اپنی ایک نیریٹیوز کو لے کر آتے ہیں ان کی اپنی بائسنس ہوتی ہے کچھ شرطیں بھی ہوتی ہیں ہم جب جامعہ کے سرزمین پر کھڑے ہو کر بات کرتے ہیں تو ہمیں ضرورت یہ نہیں ہے کہ اب ہمارے زخم کوئی اور دکھائے جب ہمارے کوئی اور زخم دکھاتا ہے تو ہمارے ساتھ مسئلہ کیا ہوتا ہے کہ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ اچھا آپ کو کتنے درد ہو رہا ہم بتاتے ہیں کہ میں پچیس پ

کیا منیمم پر آگئی ہے باغیننگ کے مسلمانوں کے لگتا ہے کہ اگر اتنی بھی کوئی بات کر رہا ہے تو کم سے کم کوئی تو کر رہا ہے؟

یہ اس چیز کا ہی منفستیشن ہے کہ مسلمان جو ہے وہ بہت زیادہ ظلم دیکھا ہے انہوں نے پچھلے کچھ سالوں میں خاص کر کے تو وہ ہتاش ہو گئے کہیں نہ کہیں ایک ناؤمیدی بھی ہے اور ایک ڈر بھی رہتا ہے ہمیشہ بنا ہوا جامیہ ایز این یونیورسٹی پہ اس لیے خاص طور پر حملہ کیونکہ کیونکہ بی جے پی آئی ایس ایس کے فیشس پروجیکٹ میں ایسنشل تو فالس انیمی ام آف آف پی پر اور مسلم کو سسٹیمیٹکلی ایک فالس انیمی ایک نقل

ازادی سنگیا ایک میں مسلم آبادی پڑھتی ہے تو پورا جامعہ کا ایک بہترین انیج یہ بنایا جاتا ہے کہ یہاں پہ زیادہ مسلم پڑھتے ہیں، مسلم پڑھتے ہیں، ٹیرررسٹ ہیں اور اس لئے بھی لڑتے ہیں کیونکہ سین آئی سی کا جو موومنٹ تھا اور اس سے پہلے بھی جو جامعہ کا ایک پورا لیگیسی ایک طور سے رہا ہے کہ یونیورسٹی ہر یونیورسٹی آن دونن سے نہیں بنتی جامعہ نون کوپریشن موومنٹ سے جنمائے بلکل یہ بتائیے کہ اگر آپ کی

آپ لوگ کیا کریں گے؟ اب اپنے لوگوں نے پروفیشنز کی کمیٹی بٹھائی تھی تو اس میں یہ ظاہر تو ہوتا ہے کہ ایڈمنسٹریشن کو فرق پڑنا شروع ہو گیا ہے اور یونین تو ملے گی یونین جب تک نہیں ملے گی ہم یہاں پہ بیٹھے ہیں

اس جامعہ ملے اسلامی ایک سنٹرل انویسٹی ہے اور اس انویسٹی کے سامنے جب بچے اس انویسٹی کے اندر اپنے حق کو مانگنے کے لئے کسی جایز حق کو ایک ڈیموکریٹک کنٹری میں ایک ڈیموکریٹک فریم ورک میں آ کر وہ اپنا حق مانگ رہے ہیں تو ان کے لئے رپیس کے جوان لگا دی جاتے ہیں سارے گارڈز کو رات و رات ہٹا دیا جاتا ہے اور یہاں پہ رپیس کے جوان پیلٹ گنز لے کر کے بچوں کے لئے تیار کھڑے رہتے ہیں وہ ا

ہمارا یہ انگسٹیکٹ چلتا رہے گا جب تک کہ مال پوری نہیں ہوئے کیونکہ بھلے ہی آج یہ چار پانچ اگر نہیں کر پائے یہ انگسٹیکٹ

تو آگے اور لوگ آکے آندر سٹریک پر بیٹھیں گے یہ دور چلتا رہے گا جب تک ہمیں یونین نہیں ملتا

میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہوں جامعہ ملیہ اسلامیہ میرا الماماتو بھی ہے اور بیس سال پہلے یہاں پر سٹوڈنٹ یونین کے الیکشن ہوئے تھے ٹھیک جب میں نے یہاں سے یہاں سے پاس آؤٹ ہوئی تھی میں وہ آخری

میں کہوں گی کہ آخری بار تھا جب یہاں پر سٹوڈنٹ یونین کا الیکشن ہوا تھا اور اس کے بعد سے جامعہ میں سٹوڈنٹ یونین کا الیکشن نہیں ہوا ہے آپ یہ دیکھ رہے ہیں کہ پورے دیش میں کس طرح سے ڈسنٹ کی جو آواز ہے وہ مضبوط ہو رہی ہے سرکار سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال پوچھے جا رہے ہیں چاہے وہ شکشہ منتری کا استیفہ ہو یا پھر گیانیش کمار کا اب استیفہ اور ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ علیگر مسلم یونیورسٹی میں جو سٹوڈنٹ

اور جامیہ ملیا کے سٹوڈنٹ بھی اب اپنی مانگوں کو لے کر ہنگر سٹرائک پر بھی ہیں کچھ اور تمام سٹوڈنٹس یہاں پر کیمپس میں موجود ہیں لگاتار ان کے ساتھ جس طرح کا ایڈمنسٹریشن کا ایک ڈکٹیٹر جیسا برطاب ہے وہ بہت طرح کے سوال پیدا کرتا ہے کہ آخر سٹوڈنٹس کی آواز سے اس ایڈمنسٹریشن کو اس سب کو کیوں آخر اتنا ڈر لگتا ہے

Discussion

0

Readers only · Comments are reviewed by the desk before they appear

Readers only

The journalism is free for everyone — create a free account to join the discussion.

More from Nous Videos